بھارت اور نیوزیلینڈ نے دفاع، تعلیم، کھیلوں، باغبانی اور جنگلات کے شعبوں میں پانچ مفاہمت ناموں پر دستخط کئے ہیں۔ دونوں ممالک نے آزاد تجارتی معاہدے اور پیشہ ورانہ اور ہنر مند ورکروں کی آمد ورفت میں سہولت کی خاطر بات چیت کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ نیوزیلینڈ بھارت بحرالکاہل سمندری اقدام میں شامل ہوگیا ہے اور وہ قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے اتحاد کا ایک ممبر بن گیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی اور نیوزیلینڈ کے اُن کے ہم منصب Christopher Luxon نے کل نئی دلّی میں بات چیت کی۔ بات چیت میں بھارت نیوزیلینڈ تعلقات کے مختلف پہلو زیر غور آئے۔ اپنے پریس بیان میں جناب مودی نے کہا کہ انہوں نے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور طرفین نے دفاع اور سکیورٹی سے متعلق شراکت داری کو مستحکم کرنے اور ادارہ جاتی بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مشقوں، تربیت اور بندرگاہوں کے دورے سمیت دفاع کی صنعت میں باہمی اشتراک کیلئے ایک نقشہ راہ تیار کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی طور پر سود مند آزاد تجارتی معاہدے کیلئے بات چیت کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے باہمی تجار وسرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا۔
جناب مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزیلینڈ دہشت گرد، علیحدگی پسند اور شدت پسند عناصر کے خلاف اشتراک جاری رکھیں گے۔ اپنے بیان میں نیوزیلینڈ کے وزیراعظمChristopher Luxon نے کہا کہ دونوں فریق، دونوں کیلئے فائدہ مند آزاد تجارتی معاہدے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیوزیلینڈ بھارت میں اپنی سفارتی موجودگی بڑھائے گا۔ بعد میں میڈیا کو تفصیل بتاتے ہوئے وزارت خارجہ میں سکریٹری مشرق Jaideep Mazumdar نے خالصتانی عناصر پر تبادلہ خیال سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ یہ معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں سامنے آیا تھا۔
نیوزیلینڈ کے وزیراعظم اور ان کے وفد نے راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم مودی اور جناب لکسن نے کل شام نئی دلّی میں دَسویں رائے سینا مذاکرات کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں جناب لکسن نے کہا کہ بھارت اور نیوزیلینڈ خوش قسمت ہیں، کیونکہ وہ دنیا کے اقتصادی طور پر سب سے منفرد خطے کا حصہ ہیں۔