حماس نے کہا ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے ایک امریکی- اسرائیلی شہری کو اسی صورت میں رہا کرے گا اور چار دیگر افراد کی لاشوں کو اسی وقت حوالے کرے گا، جب اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے پر قائم رہے گا۔ حماس نے اِسے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کیلئے غیرمعمولی قرار دیا ہے۔ حماس نے امدادی سامان پر اسرائیلی پابندیوں کو ختم کرنے اور غزہ کی اہم راہداری سے اسرائیلی فوج کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
باور کیا جاتا ہے کہ یرغمال بنائے گئے امریکی-اسرائیلی شہریوں میں 21 سالہ Edan Alexander آخری زندہ شخص بچا ہے۔ اسرائیل نے حماس کی پیشکش پر شک کا اظہار کیا ہے۔
اس دوران بیت الحیّہ علاقے میں کل رات ہوئے اسرائیلی حملے میں ایک صحافی سمیت 8 افراد مارے گئے۔ گرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بڑی لڑائی 19 جنوری سے رکی ہوئی ہے، تاہم اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔