وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دے کر کہا ہے کہ آئین ملک میں اتحاد کا بنیادی ستون ہے۔ کثرت میں وحدت کو ملک کی ایک منفرد خصوصیت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اُن کی حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کا رُخ ملک میں اتحاد کو مستحکم کرنے کی جانب ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے لوک سبھا میں آج بھارت کے آئین کے شاندار 75 برس کے سفر پر خصوصی بحث کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
وزیر اعظم نے مختلف اسکیموں اور اقدامات کے ذریعے ملک میں اتحاد قائم کرنے کی NDA حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 کو منسوخ کیا گیا اور ملک میں ایک ملک ایک ٹیکس GST نافذ کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ایک ملک، ایک راشن کارڈ، آیوشمان کارڈ، ایک ملک، ایک گرڈ اور سب کی شمولیت والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے ملک کے عوام کو مدد ملی ہے۔ ملک کی تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی وسعت کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے تئیں پُرعزم ہے اور وہ آنے والے برسوں میں تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔
پچھلے 75 برس میں بھارتی آئین کے شاندار سفر کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ملک کیلئے فخر کی بات ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر ملک کے کسانوں کی خدمات کو یاد کیا کہ بھارتی جمہوریت دنیا کیلئے ایک تحریک دینے والی جمہوریت ہے۔جناب مودی نے آئین کی تشکیل میں خواتین کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت خواتین کی قیادت والی ترقی اور پچھلے برس پارلیمنٹ سے منظور کئے گئے ناری شکتی وندن ادھینیم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کام کر رہی ہے۔
کانگریس کی نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس نے آئین کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور ایک خاندان نے 55 برس تک ملک میں حکمرانی کی۔ انھوں نے کہا کہ جب آئین نے اپنے نفاذ کے 25 برس مکمل کئے تو کانگریس نے ایمرجنسی نافذ کردی اور آئینی حقوق کو مسترد کردیا گیا۔ جناب مودی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اندراگاندھی نے آئین کو ہی تبدیل کردیا تاکہ 1971 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی حکم عدولی کرکے عدلیہ کے اختیارات کو کمزور کیا جاسکے
Site Admin | December 14, 2024 9:31 PM