وزیر اعظم نریندر مودی نے دلّی کی عام آدمی پارٹی حکومت پر یہ الزام لگاتے ہوئے شدید نکتہ چینی کی کہ اُس نے اپنے ایک دہائی کے دورِ اقتدار میں شہر کو ایک آفت کی جانب دھکیل دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال کو بطور وزیر اعلیٰ اپنی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر آرائش کیلئے بڑی رقم خرچ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپنے لئے ایک شیش محل بناسکتے تھے لیکن غریبوں کیلئے مکانات کو اوّلین ترجیح دینی چاہئے تھی۔ جناب مودی نے دلّی میں چار ہزار 500 کروڑ روپئے سے زیادہ کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے کے موقعے پر یہ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی، کالونیوں میں مناسب طور پر پانی کی فراہمی، سیور اور دیگر سہولتیں دستیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ عام آدمی پارٹی کی قیادت والی دلّی حکومت، مرکز کی آیوشمان بھارت یوجنا کو نافذ نہیں کر رہی ہے اور قومی راجدھانی کے لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہا کہ دلّی حکومت نے گذشتہ دس برس میں تعلیم کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے جناب مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ سال 2025 بھارت کی ترقی کے بے شمار امکانات کا سال ہوگا، جس سے ملک دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے اپنے ہدف کی جانب مزید آگے بڑھے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج بھارت سیاسی اور اقتصادی استحکام کی عالمی سطح پر ایک مثال ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اِس سال میں ملک کی شبیہ مزید مضبوط ہوگی۔