مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھارت مخالف تنظیموں اور نیٹ ورک پتہ لگانے کی خاطر دوست ملکوں کے ساتھ انٹلیجنس تال میل کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نئی دلی میں انٹلیجنس بیورو کا 37واں صد سالہ Endowment لیکچر دیتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں، سائبر حملوں، غلط جانکاری پھیلانے اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے پر ڈالنے جیسے چیلنجوں کے تناظر میں کوئی حل نکالنے کی خاطر روش سے ہٹ کر اندازِ فکر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ انٹلیجنس بیورو کے کام کرنے کے طریقے، وجے لینس، مستعدی اور قربانی اور لگن کی روایت کی بدولت آج ہمارا ملک محفوظ ہے۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے گذشتہ پانچ سال میں ایک فیصلہ کُن لڑائی لڑ کر ملک کو لاحق مختلف خطرات پر عبور حاصل کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں انٹلیجنس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو AI اور مشینLearning کے استعمال میں اضافہ کرنا چاہیے۔ جناب امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ 2047 تک بھارت کو پوری طرح ترقی یافتہ ملک بنانے کی خاطر سکیورٹی ایجنسیوں کو سبھی ممکنہ خطرات کا سامنا کرنے کیلئے ملک کے دفاع کی خاطر ایک جامع نقشِ راہ تیار کرنا چاہیے۔ انھوں نے فرضی فون کالز اور فرضیEmails کے خلاف فوری اور فیصلہ کُن کارروائی کی ضرورت بھی اجاگر کی اور کہا کہ ملک کے دشمن اِن وسیلوں سے عوام میں ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔x