بنگلہ دیش آج اپنا 55 واں یوم آزادی اور قومی دن منا رہا ہے۔ عزت و احترام کے ساتھ قومی دن منانے کیلئے قومی سطح پر مختلف پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔ 26 مارچ 1971 تک، مغربی پاکستان کی حکمرانی کے تحت مشرقی پاکستان کو بڑے پیمانے پر سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔ دسمبر 1970 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں عوامی لیگ کے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے باوجود، مغربی پاکستان کے حکام نے اُنہیں اقتدار کی منتقلی سے انکار کر دیا، جس سے مشرقی پاکستان میں بڑے پیمانے پر مایوسی پھیل گئی۔ 25 مارچ 1971 کی رات کو، پاکستانی فوج نے بہیمانہ آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا، جس کا مقصد خود مختاری کے مطالبات کا خاتمہ کرنا تھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔
اس کے جواب میں شیخ مجیب الرحمن نے آزادی کا اعلان کر دیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 26 مارچ کو، میجر ضیاء الرحمن نے ریڈیو پر آزادی کا اعلان کیا، جس سے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ 9 ماہ تک جاری رہنے والی جنگ میں 30 لاکھ افراد کی جانیں گئیں۔ تاہم بنگلہ دیش کو حوصلے اور قربانی سے فتح نصیب ہوئی اور 16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش نے اپنی دیرینہ آزادی حاصل کرلی۔
یوم آزادی اور قومی دن کے موقع پر صدر محمد شہاب الدین اور اعلیٰ مشیر محمد یونس نے قوم کو مبارکباد دی ہے۔ اپنے پیغام میں صدر نے ہر شہری پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں اپنے مقام سے اوپر آئیں اور امتیازی سلوک اور استحصال سے پاک بنگلہ دیش کے خواب کو حقیقت بنانے کیلئے اپنا تعاون دیں۔ اعلیٰ مشیر یونس نے اپنے پیغام میں جنگ آزادی کے خواب کو پورے کرتے ہوئے ملک کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کا عزم کرنے پر زور دیا۔ ×