امریکہ کے محکمہ خارجہ نے ارجنٹینا کی صدر کرسٹینا فرنانڈیز کے لیے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔ امریکہ نے اُن پر الزام عائد کیا ہے کہ جب وہ اپنے عہدے پر تھیں، تو وہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی میں ملوث تھیں۔
محکمہ خارجہ نے، فرنانڈیز کے منصوبہ بندی کے وزیر جولیو میگوئل ڈی وِڈو پر بھی پابندی عائد کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کَل ایک بیان میں کہا کہ فرنانڈیز اور ڈی وِڈو نے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کئی عدالتوں نے اِن دونوں افراد کو بدعنوانی کے الزامات میں قصوروار گرانا ہے۔
فرنانڈیز کا، اِس جنوبی امریکی ملک میں ایک سیاسی رہنما کے طور پر حالیہ برسوں میں کافی دبدبہ رہا ہے۔
سابق صدر کو گھوٹالے کی اسکیم کی پاداش میں تین ججوں کی ایک بینچ نے 2022 میں قصوروار گردانا تھا اور قید کی سزا سنائی تھی۔ اِس گھوٹالے میں فرنانڈیز کی صدارت کے دوران تعمیراتِ عامہ کے پروجیکٹوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر کی خرد برد کی گئی تھی۔x